حضرت ڈاکٹر غلام مصطفٰے خان رحمـۃ اللہ علیہ


بیعتِ طریقت کی ضرورت

اے عزیز باتمیز! جب تونے جان لیا کہ طریقت کی تلاش اور باطنی کمالوں کا حاصل کرنا واجب ہے تو اب جاننا چاہئے کہ اس کے حاصل کرنے کی کئی ایک طریقے ہیں، مثلاً قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور درود شریف کا کثرت سے پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کسی نام کا ذکر پر ہمیشہ قائم رہنا اور کثرت کرنا وغیرہ جیسا کہ فضائل ذکر میں گزر چکا ہے۔ لیکن چونکہ یہ راستہ ( اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا) نہایت نازک اور دشوار ہے اور نفس و شیطان جو انسان کے کھلم کھلا دشمن ہیں اور ہر وقت انسان کو سیدھے راستے سے گمراہ کرنے میں لگے رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

(ِاِنَّ النَّف٘سَ لَاَمَّارۃ ُ ٗم بِالسُّو٘ئِ اِلاَّ مَارَحِمِ رَبِّی٘ غَفُو٘ر ُ ٗ رَّحِی٘م ُ ٗ(سورئہ یوسف ، آیت۵۳
بے شک نفس انسان کو برائی کی طرف لے جانے والا ہے مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے، بلاشبہ میرا رب بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

(ِاِنَّ الشَّی٘طنَ لِل٘اِن٘سَانِ عَدُ وّ ُ ٗ مُّبِی٘ن ُ ٗ(سورئہ یوسف ، آیت ۵
تحقیق شیطان انسان کاکھلم کھلا دشمن ہے۔

 

اس لئے مرشد کی بیعت کے بغیر چارہ نہیں اور بزرگوں نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا سب سے زیادہ آسان اور سب سے زیادہ نزدیک کا راستہ یہی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قانون بھی اسی طرح پر جاری ہے کہ جس طرح انسان ظاہر کی خوبیوں اورہنروں کو اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل کر حاصل کرتاہے، اور استاد کی شاگردی حاصل کئے بغیر کوئی فن آسانی اور صحیح طریقے کے ساتھ نہیں سیکھ سکتا، برخلاف اورحیوانات کے کہ ان کے کمالات پیدائشی ہیں اور سیکھنے کے طور پر بہت کم حاصل کرتے ہیں، چنانچہ پانی میں تیرنا حیوانات کا پیدائشی کمال ہے اور انسان کو بغیر حاصل نہیں کرسکتا (الا ماشاء اللہ) اور جو شخص ظاہری بیعت کے بغیر صاحب کمال ہوتاہے اس کو صوفیائے کرام کی اصطلاح میں اویسی کہتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر اس کی بیعت کا تعلق زندہ پیر سے نہیں ہوتا، پھر بھی باطنی تعلق سے وہ بچا ہوا نہیں ہوتا۔

 
HOME | ASK QUESTION | FEEDBACK | SUBSCRIBE | CONTACTS US
Official website - Hazrat DR GHULAM MUSTAFA KHAN SAHAB R.A