حضرت ڈاکٹر غلام مصطفٰے خان رحمـۃ اللہ علیہ


ثبوت ِ بیعت

جب بیعت کے فائدوں اور ضرورت کوجان لیا تو شرع شریف سے اس کا ثبوت تلاش کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میںفرماتا ہے

مورِ مسکین ہو سے داشت کہ در کعبہ رسد دست برپائے کبوتر زد و ناگاہ رسید
ایک مسکین چیونٹی کے دل میں خواہش تھی کہ کعبہ میںپہنچے، اس نے کبوتر کے پائوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اچانک پہنچ گئی۔

حضرت مولانا روم ؒ نے اس بارے میں خوب تشریح فرمائی ہے ؂

چوں تو کردی ذات مرشد را قبول ہم خدا آمد ز ذاتش ہم رسول
نفس نتواں کشت اِلا ذاتِ پیر دامنِ آں نفس کش محکم بگیر

جب تونے پیر کی ذات کو (پیر کو) قبول کرلیا تو اس سے اللہ تعالیٰ بھی مل گیا اور رسول ﷺ بھی ۔ اس نافرمان نفس کو پیر کی ذات کے سوائے کوئی نہیںمار سکتا، تو اس نفس کے مارنے والے (پیر) کا دامن مضبوط پکڑ۔

اصحاب کہف کے کتے کا قصہ بھی جو قرآن مجید میں ہے اس پر دلیل ہے ؂

سگِ اصحابِ کہف روزے چند پئے نیکاں گرفت مردم شد
اصحابِ کہف کے کتے نے چند دن نیکوں کی پیروی کی اور آدمی ہوگیا۔

اولیائے کرام ؒ کی صحبت کا اثر سب کا نزدیک مانا گیا ہے۔ مولانا رومی ؒ نے فرمایا ہے ؂

یک زمانہ صحبتے با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
اللہ تعالیٰ کے دوستوں کی صحبت میںذرا سی دیر بیٹھنا سو سال کی بے ریا خالص عبادت سے بہتر ہے۔

 
HOME | ASK QUESTION | FEEDBACK | SUBSCRIBE | CONTACTS US
Official website - Hazrat DR GHULAM MUSTAFA KHAN SAHAB R.A