حضرت ڈاکٹر غلام مصطفٰے خان رحمـۃ اللہ علیہ


(حقیقت ِ طریقت (بیعت ہونے کا مقصد

بعض ناواقف ناواقف لوگ طریقت کی حقیقت اور بیعت کی غرض و غایت کے سمجھنے میں بہت دھوکا کھاتے ہین اور بہت سی غیر ضروری اور غیر متعلق باتوں کو اس میں شامل کرلیتے ہیں اس لئے اس بیان میں یہ بتادینا ضروری ہے کہ سلوک کا خلاصہ اور بیعت کی غرض و غایت کیا ہے۔ جاننا چاہئے کہ

۱۔ نہ اس میں کشف و کرامات ضروری ہے۔

۲۔ نہ قیامت میں بخشوانے کی ذمہ داری ہے۔

۳۔ نہ دنیاوی کاموں میں کامیابی کا وعدہ ہے کہ مثلاً تعویذ گنڈوں سے کام بن جائیں یا مقدمات دعا سے فتح ہوجایا کریں یا روزگار میںترقی ہو، یا جھاڑ پھونک سے بیماری جاتی رہے یا ہونے والی بات بتادی جایا کرے۔

۴۔ نہ تصرفات لازم ہیں کہ پیر کی توجہ سے مرید کی اصلاح خود بخود ہوجائے اس کو گناہ کا خیال ہی نہ آئے۔ خودبخود عبادت کے کام ہوتے رہیں مرید کو ارادہ بھی نہ کرنا پڑے، یا علم دین و قرآن میں ذہن و حافظہ بڑھ جائے۔

۵۔ نہ ایسی باطنی کیفیات پیدا ہونے کی کوئی میعاد ہے کہ ہر وقت یا کم از کم عبادت کے وقت لذت سے سرشار اور مست رہے۔ عبادت میں خطرات ہی نہ آئیں ، خوب رونا آئے۔ ایسی محویت ہوجائے کہ اپنے پرائے کی خبر ہی نہ رہے۔

۶۔ نہ ذکر و شغل میں انوار وغیرہ کا نظر آنا یا کسی آواز کا سنائی دینا ضروری ہے۔

۷۔ نہ عمدہ عمدہ خوابوں کا نظر آنا یا الہامات کا صحیح ہونا لازمی ہے۔

بلکہ اصل مقصود حق تعالیٰ کا راضی کرنا ہے جس کا ذریعہ شریعت کے حکموں پر پورے طور پر چلنا ہے۔ ان حکموں میں بعضے ظاہر سے متعلق ہیں جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ اور جیسے نکاح و طلاق و ادائے حقوق زوجین و قسم و کفارہ عفارہ قسم وغیرہ اورجیسے لین دین و پیروی مقدمات و شہادت ووصیت و تقسیم ترکہ وغیرہ اور جیسے سلام و کلام و طعام و منام و قعود و قیام و مہمانی و میزبانی وغیرہ ان مسائل کو علم فقہ کہتے ہیں۔ اور بعضے باطن سے متعلق ہیں ، جیسے اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنا، اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا، دنیا سے محبت کم ہونا، اللہ تعالیٰ کی مشیت پر راضی رہنا، حرص نہ کرنا، عبادت میں دل کا حاضر رکھنا، دین کے کاموں کو اخلاص سے کرنا، کسی کو حقیر نہ سمجھنا، خود پسندی نہ ہونا، غصے لو ضبط کرنا وغیرہ ان اخلاق کو سلوک کہتے ہیں اور ظاہری احکام کی طرح ان باطنی احکام پر عمل کرنا بھی فر ض و واجب ہے۔ نیز ان باطنی خرابیوں سے اکثر ظاہری اعمال میں بھی خرابی آجاتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی محبت کم ہونے سے نماز میں سستی ہوگئی یا جلدی جلدی بلا تعدیل ارکان پڑھ لی یا بخل سے زکوٰۃ اور حج کی ہمت نہ ہوئی، یا غرور یا غصے کے غلبے سے کسی پر ظلم ہوگیا، یا حقوق تلف ہوگئے و مثل ذالک۔ اور اگر ان ظاہری اعمال میں احتیاط بھی کی جائے تب بھی جب تک نفس کی اصلاح نہیں ہوتی وہ احتیاط چند روز سے زیادہ نہیں چلتی۔ پس نفس کی اصلاح ان دو سبب سے ضروری ٹھہری لیکن یہ باطنی خرابیاں ذرا سمجھ میں کم آتی ہیں اور جو سمجھ میں آتی ہیں ان کی درستگی کا طریقہ بہت کم معلو م ہوتا ہے اور جو معلوم ہوتا ہے تو نفس کی کشاکشی سے اس پر عمل مشکل ہوجاتا ہے۔ ان ضرورتوں کی وجہ سے پیر کامل کو تجویز کیا جاتا ہے کہ وہ ان باتوں کو سمجھ کر آگاہ کرتا ہے اور ان کا علاج اور تدبیر بھی بتاتا ہے اور نفس کے اندر درستگی کی استعداد اور ان کے علاج کے طریقوں میں آسانی اور تدبیروں میں طاقت پیدا ہونے کے لئے کچھ اذکار و اشغال کی بھی تعلیم کرتا ہے اور خود ذکر بھی ایک عبادت ہے۔ پس سالک کو دو کام کرنے پڑتے ہیں ایک ضروری جو کہ شرع کے ظاہر اور باطن حکموں کی پابندی ہے۔ دوسرا مستحب ہے جو کہ ذکر کی کثرت ہے۔ نمبر ایک یعنی حکموں کی پابندی سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب اور نمبر دو یعنی ذکر کی کثرت سے رضا اور قرب میںزیادتی حاصل ہوتی ہے۔ یہ ہے خلاصہ سلوک کے طریقے اورمقصود کا۔ جس کا مفصل بیان سابقہ صفحات میں گزر چکا ہے۔

 
HOME | ASK QUESTION | FEEDBACK | SUBSCRIBE | CONTACTS US
Official website - Hazrat DR GHULAM MUSTAFA KHAN SAHAB R.A