حضرت ڈاکٹر غلام مصطفٰے خان رحمـۃ اللہ علیہ


ثبوت ِ بیعت

جب بیعت کے فائدوں اور ضرورت کوجان لیا تو شرع شریف سے اس کا ثبوت تلاش کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میںفرماتا ہے

ِاِنَّ الَّذِی٘نَ یُبَایِعُو٘نَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُو٘نَ اللّٰہَ ط یَد٘اللّٰہِ فَو٘قَ اَی٘دِی٘ھِم٘ ج فَمَن٘ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَن٘کُثُ عَلیٰ نَف٘سِہٖ ج وَمَن٘ اُو٘فٰی بِمَا عٰھَدَ عَلَی٘ہُ اللّٰہِ فَسَیُو٘ تِی٘ہِ اَج٘راً عَظِی٘ماً
(سورئہ فتح، آیت ۱۰)

بے شک (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پس جو اپنے اقرار کو توڑتا ہے اس کے توڑنے کا وبال خود اسی کی ذات پر پڑے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو پورا کیا توا للہ تعالیٰ اس کو جلد ہی بڑا بھاری ثواب عنایت کرے گا۔

مشہور اور صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ بیعت کرتے تھے، کبھی ہجرت اور جہاد پر اور کبھی اسلام کے ارکان پر قائم رہنے، یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کے ادا کرنے پر ، کبھی کفار کے ساتھ لڑائی پر ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے پر، جیسا کہ بیعتِ رضوان اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مضبوط پکڑنے اور بدعت سے بچنے پر اور عبادتوں پر زیادہ دھیان دینے پر، چنانچہ صحیح روایت سے ثابت ہوا ہے کہ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے مردے کی لاش پر نہ رونے اور بین (نوحہ) نہ کرنے پر بیعت لی کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کریں۔ پس ان میں سے بعض لوگوں کا یہ حال تھا کہ ان کا کوڑا اگر جاتا تو اپنے گھوڑے سے اتر کر اس کو اٹھالیتے تھے اور کسی سے کوڑا اٹھانے کا سوال بھی نہ کرتے تھے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جو کوئی کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عبادت کے طریق پر اہتمام کے ساتھ ثابت ہوا نہ کہ عادت کے طور پر تو یہ فعل سنت ہے اور اوپر ذکر کی ہوئی باتوں پر بیعت لینا عبادت کے طریق پر نہایت اہتمام کے ساتھ تھا تو بیعت کے سنت ہونے میں اب کچھ شک و شبہ نہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی زمین پر خلیفتہ اللہ تھے اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنا قرآن اور حکمت اتاری تھی اس کے عالم اور مصلح تھے۔ پس جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کی بنا پر کیا وہ آپؐ کے خلفا کے لئے سنت ہوگیا اور جو کام کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور حکمت کی تعلیم کے لئے اور نفس کے نزکیہ کے واسطے کیا وہ علمائے راسخین (جو علم ظاہر اور باطن سے آراستہ ہوں) کے لئے سنت ہوا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے بیعت تو صرف خلافت اور سلطنت پر منحصر ہے اور جو صوفیوں کی عادت اہل تصوف سے آپس میں بیعت لینے کی ہے اس کی شرع شریف میں کوئی حقیقت نہیں، تو جاننا چاہئے کہ یہ خیال برا اور غلط ہے اور دلیل اس کی ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے ارکان پر قائم رہنے کے لئے بیعت لیتے تھے اور کبھی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مضبوطی کے ساتھ عمل کرنے پر اور یہ حدیث شریف اس پر گواہی دے رہی ہے کہ حضرت جریرؓ پر ان کی بیعت کے وقت شرط کی اور فرمایا کہ ہر مسلمان کے واسطے خیر خواہی لازم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی قوم سے بیعت لی اور شرط کی کہ اللہ تعالیٰ کے کاموں کو پورا کرنے میں کسی برا کہنے والے کے برا کہنے سے نہ ڈریں اور جہاں رہیں حق بات ہی بولیں۔ پس ان میں سے بعض لوگ حاکموں اور بادشاہوں پر کسی خوف کے بغیر کھل کر رد و انکار کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے بیعت لی اور شرط کی کہ نوحہ کرنے سے پرہیز کریں اور ان کے سوا بہت سی باتوں پر بیعت ثابت ہے اور یہ سب کام نفس کی صفائی اور نیک کام کے حکم اور برے کام سے منع کرنے کی قسم سے ہیں، چنانچہ اب واضح ہوگیا کہ بیعت صرف خلافت کے منوانے ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ عملوں کی اصلاح اور نفس کی صفائی کے لئے بھی ثابت ہے۔ یہاں پر بعض لوگ شبہہ پیش کرتے ہیںکہ اگرچہ کئی طرح کی بیعتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوئیں، لیکن صحابہ کرامؓ کے وقت میں اتباع اور جہاد کی بیعت کے سوا کوئی اور بیعت نہیں تو معلوم ہوا کہ بیعت توبہ کی کچھ اصلیت نہ تھی ورنہ خلفا کے زمانے میں بھی جاری رہتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب ایک فعل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو اور کے نقل کی کیا ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صوفیائے کرام کے سلسلوں میں یہ بیعت بھی ثابت ہے۔ یہ ہستیاں اس نسبت کے حاصل کرنے میںکیسے خلاف ہوسکتی ہیں، حدیث

(اَل٘مَر٘ئُ مَعَ مَن٘ اَحَبَّ وَلَہ ٗ مَاک٘تَسَبَ۔(رواہ الترمذی
آدمی اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت کرے اور اس کے واسطے وہی کچھ ہے جو کچھ وہ کسب کرے۔

 
HOME | ASK QUESTION | FEEDBACK | SUBSCRIBE | CONTACTS US
Official website - Hazrat DR GHULAM MUSTAFA KHAN SAHAB R.A