حضرت ڈاکٹر غلام مصطفٰے خان رحمـۃ اللہ علیہ


(شرائطِ مرشد (پیر کیسا ہو؟

اگرچہ اوپر کے بیان پر پیر کی تلاش کا ایک بہت آسان طریقہ بتادیا ہے لیکن پیر کی چند شرطوں کا معلوم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ صحیح طور پر کامل پیر کی تلاش ہوسکے۔

شرطِ اول

شرطِ اول قرآن مجید اور حدیث شریف کا علم ہے اور اس سے میری یہ مراد نہیںک ہ نہایت درجے کا ہونا ضروری ہے بلکہ قرآن شریف کے علم میں تفسیر مدارک یا جلالین یا اسی قسم کی کسی تفسیر کو کسی عالم سے پڑھ لیا ہو اور اس کے معنوں اور ترجمے اور مشکل الفاظ کے معانی اور شانِ نزول، اعراب، قصص، دو مختلف چیزوں میں میل (مطابقت) پیدا کرنا، ناسخ و منسوخ کا پہچاننا، قرآن مجید سے ثابت ہونے والے مسائل کا پہچاننا حاصل ہوجائے اور حدیث شریف کے علم میںکتاب مشکوٰۃ المصابیح یا مشارق وغیرہ کو پڑھ اور سمجھ چکا ہو۔ اس کے معانی اور عجیب شرحوں یعنی مشکل الفاظ کا ترجمہ اور مشکل اعراب اور تاویل معضل کی بنا پر مذہب کے فقہا کی رائے معلوم کرچکا ہو، اور بیعت لینے کے لئے قرآن مجید کے علم میں اختلاف قرات کا یاد رکھنا اور علم حدیث میں سندوں کے حال کی تلاش کرنا ضروری نہیں ہے اور اسی طرح علم اصول فقہ اور اصول حدیث اور جزئیات فقہ اور فتادوں کا یاد رکھنا لازمی نہیں ہے اور پیر کے لئے عالم ہونا اس لئے ضروری ہے کہ بیعت سے غرض مرید کو شرع کے کاموں کا حکم کرنا اور خلافِ شرع باتوں سے روکنا، دل کو اطمینان اور تسلی کی طرف لے جانا، بری عادتوں سے روکنا، اچھی عادتوں کے حاصل کرنے کے لئے حکم کرنا اور پھر مرید کا ان سب باتوں پر عمل کرنا ہے۔ پس جو شخص ان باتوں سے واقف اور عالم نہیں ہوگا اس سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ شریعت اور طریقت کو الگ الگ خیال کرتے ہیں ان کو جاننا چاہئے کہ شریعت ایک درخت ہے اور طریقت اس کو پانی دینا اور پرورش کرنا ہے اور معرفت اس کا پھل ہے۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں[L: 58]

کُلُّ طَرِی٘قَۃٍ رَدَّ الشَّرِی٘عَۃُ فَھ٘وَ الزَّن٘دَقَۃُ۔
وہ طریقت جس کو شریعت رد کردے پس وہ زندقہ ہے۔

اور حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تصوف تین چیزوں کا نام ہے۔
۱۔ یہ کہ اس کی معرفت کا نور اس کے پرہیزگاری کے نور کونہ بھجادے۔

۲۔ یہ کہ اندرونی علم کے ساتھ اس طرح بات نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ظاہر اس کو ناقص کردے۔

۳۔ یہ کہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام کردی ہیں ان کی توہین کرکے بزرگی حاصل نہ کرے۔

اور اس کے مانند بزرگوں کے بہت سے اقوال بیان کئے گئے ہیں، جس کا جی چاہے بڑی بڑی کتابوں میں دیکھ لے۔ (شریعت ، طریقت، حقیقت، معرفت وغیرہ کی تعریف ہم انشاء اللہ العزیز آگے اصطلاحاتِ صوفیہ کے بیان میں اچھی طرح واضح کریں گے) اسی لئے سب بزرگوں نے کہا ہے کہ سوائے اس شخص کے جس نے استاد سے سبق پڑھا ہو اور حدیث کی روایت کی ہو اور کوئی شخص وعظ نہ کرے۔ لیکن چونکہ اس گئے گزرے زمانے میں ان باتوں کا پایا جانا بہت کم ہے اس لئے ایسا آدمی جس نے پرہیز گار علما کی بہت مدت تک صحبت حاصل کی ہو اور ان سے ادب سیکھا ہو، حلال و حرام کی تمیز حاصل کی ہو، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سن کر ڈر جاتا ہو اور اپنے قول و فعل اور حالات کو قرآن مجید اور سنت کے موافق کرلیتا ہو تو امید ہے کہ مذکورہ بالا علم نہ ہونے کی صورت میں اس قدر معلومات بھی اس کے لئے کافی ہوسکتی ہیں (فقط اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے)

شرطِ دوم

دوسری شرط عدالت اور تقویٰ ہے یعنی واجب ہے کہ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور صغیرہ گناہوں پر اڑ نہ جاتا ہو اور پیر کے لئے تقویٰ اس لئے شرط ہوا کہ بیعت دل کی صفائی کے لئے شرط ٹھہری اور انسان کی فطرت اپنے ہم جنسوں کی پیروی کرنا ہے اور دل کی صفائی میںصرف قول بغیر عمل کے کافی نہیں ہے ۔ لقولہ تعالیٰ

(یآیُّھَالَّذِی٘نَ اٰمَنُو٘ا لِمَ تَقُو٘لُو٘نَ مَالاَ تَف٘عَلُو٘نَ (سورئہ صف، آیت ۲
اے ایمان والو! ایسی بات کیوں کہتے ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے۔

پس جو پیر خود اچھے عمل نہیں کرتا اور زبانی باتیں ہی بناتا ہے تو وہ بیعت کی حکمت کو ضائع کرنے والا ہے۔

شرطِ سوم

تیسری شرط یہ ہے کہ دنیا سے نفرت کرنے والا اور آخرت کی طرف لو لگانے والا ہو۔تاکیدی عبادتوں اور ایسے ذکر اور وظیفوں پر جو کہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہیں پوری پابندی کے ساتھ عمل کرتا ہو، دل کا تعلق ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے رکھتا ہو اور اس کو یادداشت کی پوری پوری مشق ہو (یادداشت سے مراد بے ارادہ اور بے اختیار دل سے اللہ اللہ کرنا ہے، اس کی حقیقت انشاء اللہ آگے بیان ہوگی)۔

شرطِ چہارم

چوتھی شرط یہ ہے کہ شرع کی باتوں کا حکم کرتا ہو اور شرع کے خلاف کاموں سے روکتا ہو، اپنی رائے پر مضبوط اور پکا ہو، ہرجائی اور ہر دم خیالی نہ ہو، یعنی وہ اپنی ایک رائے اور ایک ارشاد رکھتا ہو، مروت اور عقل سلیم والا ہو تاکہ اس پر اور اس کے بتائے ہوئے اور روکے ہوئے کاموں پر بھروسہ کیا جائے۔

شرطِ پنجم

پانچویں شرط یہ ہے کہ بیعت لینے والا ایسے کامل پیروں کی صحبت میں رہا ہو جن کا سلسلہ تعلق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو اور ان سے ادب سیکھا ہو اور دل کا نور اور اطمینان حاصل کیا ہو، اور یہ اس واسطے شرط ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا قانون اسی طرح سے جاری ہے کہ جب تک مراد پانے والوں کو نہ دیکھے تب تک مراد نہیںملتی اور جس طرح انسان کو ظاہری علم عالموں کی صحبت کے بغیر حاصل نہین ہوتا اسی طرح باطنی علم کے لئے بھی بزرگوں کی صحبت ضروری ہے اور اس قیاس پر لوہار اور بڑھئی وغیرہ کے پیشے ہیں۔ کرامات اور عادات کے خلاف باتوں کا ظاہر ہونا اس لئے شرط نہیں کہ ان کا دارومدار مجاہدوں اور ریاضتوں پر ہے اور یہ بات شرع شریف کے خلاف چلنے والوں اور کفار مثلاً جوگیوں وغیرہ میں بھی پائی جاتی ہے اس لئے کمال کی شرط نہیں ہے اور پیشے کا چھوڑ دینا اس لئے شرط نہیں ہے کہ شرع شریف کے خلاف ہے اور وہ جو بعض کمال والے لوگ کسی حالت کے غلبے کی وجہ سے حلال روزی کمانے کی طرف خیال نہیں کرتے، ان کے فعل کو نہ کمانے پر دلیل نہ پکڑنا چاہئے۔ بزرگوں پیشے سے بچنا ضروری ہے اور پوری طرح سے دنیا کو چھوڑ کر الگ تھلگ پہاڑوں یا جنگلوں میں رہنا اور اپنے اوپر سخت عبادتوں کو ضروری سمجھنا جیسا کہ ہمیشہ روزہ رکھنا، تمام رات جاگنا اور بیوی سے بالکل الگ رہنا، لذیذ کھانا نہ کھانا وغیرہ جس کو ہمارے وقت کے عام جاہل لوگ کمال کی شرط جانتے ہیں اس لئے شرط نہیں کہ یہ باتیں دین میں زیادتی اور نفس پر سختی کرنے میں داخل ہیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنی جانوں کو سخت نہ پکڑو ورنہ اللہ تعالیٰ تم کو سخت پکڑے گا اور فرمایا کہ

لاَ رَھ٘بَانِیَۃَ فِی ال٘اِس٘لاَمِ۔
اسلام میں رہبانیت (ترک دنیا) جائز نہیں۔
اور فرمایا
وَاِنَّ لِنَف٘سِکَ عَلَی٘کَ حَقًّا۔
تیرے نفس کا بھی تیرے اوپر حق ہے۔

 
HOME | ASK QUESTION | FEEDBACK | SUBSCRIBE | CONTACTS US
Official website - Hazrat DR GHULAM MUSTAFA KHAN SAHAB R.A