حضرت ڈاکٹر غلام مصطفٰے خان رحمـۃ اللہ علیہ


فیض حاصل ہونے کی صورتیں

فیض حاصل ہونے کی مختلف صورتیں ہیں اور طرح طرح کی کیفیتیں ظاہر ہوتی ہیں، مثلاً کسی کو نیند آتی ہے حتیٰ کہ لیٹ جاتا ہے۔ کوئی بے خود اور بے ہوش ہوجاتا ہے اور کوئی بیخودی کی حالت میں دل میں ذکر جاری پاتا ہے اور اس کی حرکت نبض کی حرکت کے مانند ہے اور ضرب اللہ، اللہ دل پر پڑتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ آواز یہاںتک قوت پکڑ جاتی ہے کہ بغیر آنکھ بند کئے ہوئے بھی بے تکلف آنے لگتی ہے اور لوگوں کا غل غلپاڑا اس میں رکاوٹ پیدا نہیں کرتا اور اس میں مصروف ہونے سے جس قدر ذوق شوق بڑھتا ہے اس کے لکھنے کی نہ قلم میں طاقت ہے اور نہ بیان کرنے کا زبان کا یارا۔ پس جب ذکر تمام بدن میں اثر کیا جاتا ہے تو سارے بدن سے ایسی آواز آنے لگتی ہے۔ جیسی گنبد میں سے آتی ہے اس آواز کو صوت حسن و ہمس کہتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

(وَخَشَعَتِ ال٘اَص٘وَاتُ لِلرَّح٘مٰنِ فَلاَتَس٘مَعُ اِلَّاھَم٘ساً (سورئہ طہٰ ، آیت ۱۰۸
اور رحمن کے ڈر سے آوازیں دب جائیں گی پھر تو سوائے کھسر پھسر کے کچھ نہ سنے گا۔

 

اور کہتے ہیںکہ یہی آواز تھی کہ حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے درخت سے اور اپنے تمام بدن سے سنی تھی اور ان پر وحی نازل ہونے کی دلیل تھی اور اولیائے کرامؒ بھی اسی آواز کے ساتھ الہام سے بزرگی حاصل کرتے ہیں اور عارفوں نے بھی اسی آواز سے اللہ تعالیٰ کو پایا ہے اور ہمیشہ روز بروز اس ذکر کی آواز غالب ہوتی چلی جاتی ہے اور کبھی گھنٹے جیسی بھی آواز آنے لگتی ہے۔ چنانچہ حافظ شیرازی رحمہ اللہ اسی طرف اشارہ کرتے ہیں ؂

کس ندانست کہ منزل گہِ آں یار کجاست ایں قدر ہست کہ بانگِ جر سے می آید
کوئی نہیں جانتا کہ اس دوست کی منزل کہاں ہے۔ ہاں مگر اتنا ہے کہ (قافلے کے) ایک گھنٹے کی آواز آتی رہتی ہے۔

اور کبھی کبھی دوسری طرح کی آواز آتی ہے۔ مثلاً کبھی بھڑ کی، کبھی چڑیا کی، کبھی ایسی جیسے شام کو بسیرے کے وقت پرندے اڑتے پھرنے کی اور کبھی ڈھول، گھنٹے اور ہانڈی کے جوش مارنے کی آواز، کبھی طنبور، سارنگی، ستار، نقارہ اور دوسرے باجوں کی سی۔ غرض اسی طرح نئی نئی آوازیں ظاہر ہوتی ہیں اور اس کی نشانی یہ ہے کہ ایسی آواز ڈھول اور نوبت خانہ کی آواز پر غالب آجائے اور جب اس کا غلبہ کمال کو پہنچ جاتا ہے تو وہ سلطان الاذکار کی آواز ہے کہ کبھی بجلی کی کڑک کی سی آواز ظاہر ہوتی ہے اور تمام بدن میں کپکپی پیدا ہوجاتی ہے، کسی کو جذبہ اور دیگر واردات حاصل ہوتی ہیں کسی کے لطیفوں میں بجلی، ستارہ، چاند سورج یا دوسری قسم اور رنگ کے انوار ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن سالک کو چاہئے کہ ان انوار کی طرف توجہ نہ کرے اس لئے کہ بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات بے جہت و بے کیف کا نور حاصل کرنا ہے، کسی کو باطنی سیر شروع ہوجاتی ہے اور ظاہری حسیں بیکار ہوجاتی ہیں اور کسی کے لطیفوں میں گرمی محسوس ہوتی ہے۔ کسی کو شرع شریف کی پیروی اور اچھی عادتیں حاصل کرنے کا شوق اور شرع کے خلاف باتوں سے نفرت اور بری عادتوں سے بیزاری ہوجاتی ہے، کوئی اپنے اندر پیر کی محبت کا مزا اور توجہ کی کشش پاتا ہے اور کسی کو ظاہراً کچھ معلوم نہیں ہوتا مگر وہ بھی اثر سے خالی نہیں رہتا، توجہ اپنا اثر ضرور کرتی ہے اگرچہ معلوم نہ ہو اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اکثر پر عجیب عجیب حالات اور کیفیات کا نہ ہونا اور ان کا کامل ہونا اور شرع شریف پر پوری طرح عمل کرنا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا پایا جانا صحبت کے فائدہ مند ہونے پر دلیل ہے۔

 
HOME | ASK QUESTION | FEEDBACK | SUBSCRIBE | CONTACTS US
Official website - Hazrat DR GHULAM MUSTAFA KHAN SAHAB R.A