حضرت ڈاکٹر غلام مصطفٰے خان رحمـۃ اللہ علیہ


طلب طریقت کاوجوب

دلیل اول

طریقت کی تلاش اور اندرونی کمالات کے حاصل کرنے میں کوشش کرنا واجب ہے جیسا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے

(یٰآیُّھَا الَّذِی٘نَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ۔( آل عمران، آیت ۱۰۲
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔

یعنی ظاہر اور باطن میں عقیدوں اور اخلاق میں سے کوئی ایسی چیز نہ ہو جو کہ اللہ تعالیٰ کی خفگی کا سبب ہو۔ تقویٰ کو کامل طریقے سے اختیار کرنا چاہئے۔ آیت مذکورہ میں امر کا صیغہ ہے اور امر واجب ہونے کی دلیل ہے، لہٰذا ہر مسلمان پر تقویٰ لازم ہوگیا اور تقویٰ کمال ولایت کے بغیر حاصل نہیںہوسکتا۔ کیونکہ حسد، کینہ ، غیبت، ریا ، غرور، تکبر وغیرہ نفس کی برائیاں ہیںکہ جن کا حرام ہونا قرآن مجید، حدیث شریف اور اجماع سے ثابت ہے۔پس جب تک یہ نفس کی برائیاں دور نہ ہوجائیں پورا پورا تقویٰ حاصل نہیں ہوتا اور نفس کا فنا ہونا اور گناہوں سے بچنا جسم کی اصلاح سے حاصل ہوتا ہے اور جسم کی اصلاح دل کی اصلاح پر منحصر ہے اور اسی کا نام ولایت ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوچکا ہے۔ چنانچہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

(ِاِنَّ اللّٰہَ لاَ یَن٘ظُرُ اِلیٰ صُوَرِکُم٘ وَاَم٘وَالِکُم٘ وَلٰکِن٘ یَّن٘ظُرُ اِلیٰ قُلُو٘بِکُم٘ وَاَع٘مَالِکُم٘۔(مسلم عن ابی ہریرہؓ
بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا و لیکن وہ تمہارے قلوب اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔

دلیل دوم

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

(اِنَّ اَک٘رَمَکُم٘ عِن٘دَ اللّٰہِ اَت٘قَاکُم٘ (سورئہ حجرات ، آیت ۱۳
تحقیق تم میں سب سے زیادہ تقویٰ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ بزرگ ہے۔

نیز فرمایا

(فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اس٘تَطَع٘تُم٘۔(سورئہ تغابن ، آیت ۱۶
پس تم ڈرو اللہ تعالیٰ سے جہاں تک تم سے ہوسکے۔

نیز صحیح حدیث میں آیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اِنَّ اَع٘لَمَکُم٘ وَاَت٘قَاکُم٘ بِاللّٰہِ اَنَا۔
تحقیق میں اللہ تعالیٰ کو تم سے زیادہ جانتا اور تم سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں۔

پس ان چیزوں سے پرہیز کرنا جن سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتاہے تقویٰ کہلاتا ہے۔ جتنا زیادہ پرہیز کرے گا اتنا ہی متقی ہوگا، اتنی ہی نفس کی برائیاں فنا ہوں گی اور قلب کی صفائی حاصل ہوگی۔

دلیل سوم

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَقُل٘ رَّبِّ زِد٘نِی٘ عِل٘ماً O(سورئہ طہٰ ، آیت ۱۱۴)
اور کہئے اے میرے رب میرا علم زیادہ فرما۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم یعنی علم ظاہر و باطن کی زیادتی طلب کرنے کی تعلیم کی جارہی ہے تو دوسروں کو تو بدرجہ اولیٰ لازم ہوکہ ظاہری اور باطنی قرب کے مرتبوں کی طلب کرتے رہیں اور کاملوں کے لئے قرب کے مراتب پر قناعت کرنا حرام ہے۔ اب ہم اصل مطلب بیان کرتے ہیںکیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات لامحدود ہے اس لئے اس کی طلب کا راستہ بھی لامحدود ہے پس کامل شخص اپنے وصول الی اللہ کے اعتبار سے کامل ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی طلب کے مرتبوں کی کوئی انتہا نہیںہے جتنا کوئی آگے بڑھتا جائے گا اتنی ہی اس کی وسعت بڑھتی جائے گی۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شیخ سعدیؒ نے فرمایا ہے ؂ نہ حسنش غایتے داردنہ سعدی راسخن پایاں بمیر و تشنہ مستتسقی و دریا ہمچناں باقی نہ اس کا حسن کوئی حد رکھتا ہے اور سعدیؒ کے کلام کی انتہا ہے، پیاس کی بیماری والا پیاسا ہی مرجاتا ہے اور دریا بھی بدستور باقی رہتا ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کا قصہ اس پر کھلی دلیل ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حضرت خضر ؑ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا

کہف ، آیت۶)ھَل٘ اَتَّبِع٘کَ عَلیٰ اَن٘ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّم٘تَ رُش٘داً)
موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا (اجازت ہے کہ ) میں تیری پیروی کروں اس بات کے واسطے کہ جو کچھ تجھے علم دیا گیا ہے تو وہ مجھ کو بھی سکھا دے۔

دلیل چہارم

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

فَاس٘ئَلُو آ اَھ٘لَ الذِّک٘رِ اِن٘ کُن٘تُم٘ لاَ تَع٘لَمُو٘نَO(سورئہ نحل، آیت۴۳)
پس ذکر والوں سے پوچھ لیا کرو اگر تم نہیں جانتے۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا طریقہ حاصل کرو۔

 
HOME | ASK QUESTION | FEEDBACK | SUBSCRIBE | CONTACTS US
Official website - Hazrat DR GHULAM MUSTAFA KHAN SAHAB R.A